فیصل آباد عدالت کا فیصلہ؛
پی ٹی آئی کے 196کارکنان کو 10 سال قید
فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت (ATC) نے پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے درجنوں رہنماؤں اور کارکنوں کو مئی 9 کے پرتشدد واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں سخت سزائیں سنا دیں۔ اس عدالتی فیصلے کے مطابق، مجموعی طور پر 196 افراد کو 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
- تفصیلات ؛
فیصل آباد کے مین کیس میں کل 185 افراد کو نامزد کیا گیا، جن میں سے
کل 108 افراد کو سزائے سنائی گئ
جن میں سے 77 افراد بری ہو گئے
سزا پانے والوں میں شامل؛
58 سینئر رہنما جیسے عمر ایوب، شبلی فراز، زرتاج گل، اور حامد رضا — سب کو 10 سال قید کی سزا
عام 50 کارکنان کو 1 سے 3 سال کی قید کی سزائیں
ایک اور علیحدہ مقدمہ غلام محمد آباد تھانے میں درج ہوا، جہاں؛
66---- افراد کو نامزد کیا گیا
58---- افراد کو 10 سال قید
8 ---افراد کو بری کر دیا گیا
✅ کل 10 سال سزا پانے والے افرا ؛
58 (رہنما) + 58 (غلام محمد آباد کیس) = 116 افراد
جبکہ دیگر کیسز سمیت رپورٹس کے مطابق تقریباً 196 افراد کو مجموعی طور پر 10 سال کی سزا ہوئی۔
⚖️ وکلائے صفائی کا مؤقف:
وکلائے صفائی نے فیصلے کو "سیاسی انتقام" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس
فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کریں گے۔
Faisalabad Court Sentences 196 PTI Members to 10 Years in Jail
The Anti-Terrorism Court (ATC) in Faisalabad has sentenced dozens of Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) leaders and workers to 10 years imprisonment for their alleged involvement in the May 9 riots and violent protests.
📌 Case Details:
In the main case involving 185 individuals:
108 were convicted
77 were acquitted
Among the convicted:
58 senior leaders including Omar Ayub, Shibli Faraz, Zartaj Gul, and Hamid Raza were each sentenced to 10 years
50 ordinary workers received 1 to 3 years sentences
In another separate case registered at Ghulam Muhammad Abad police station:
Out of 66 accused, 58 were sentenced to 10 years, while 8 were acquitted
✅ Total 10-Year Sentences:
58 (leaders) + 58 (Ghulam Muhammad Abad case) = 116 individuals
However, according to multiple reports, nearly 196 individuals have received 10-year jail terms across all related cases.
⚖️ Defense Statement:
Defense lawyers have denounced the court’s decision, labeling it as political victimisation, and have announced plans to appeal the ruling in higher courts.

Comments
Post a Comment